بسم الله الرحمن الرحيم

Sunday, 19 March 2017

Article About the first Caliph of Islam Hazrat Abubakar (R.A)


خلیفۂ اوّل حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ : اعترافات کے آئینےمیں


  بسم اﷲ الرحمن الرحیم

سرور کونین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پردہ فرمانے کے بعد خلیفۂ اول حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے منہاج نبوی کے مطابق اسلامی مملکت کے نظام کو چلایا۔ آپ کے عہد میں کئی کئی محاذ درپیش آئے، فتنے سر اُبھارے، یہود و نصاریٰ کی سازشوں نے نئے نئے عزایم تیار کیے، آپ نے جس حکمت و دانش اور فکر و تدبر کے ساتھ ان کا مقابلہ کر کے انھیں پسپا کیا وہ بے مثال کام ہے، جس پر آج بھی ارباب دانش حیرت زدہ ہیں۔ مؤرخین تعجب کرتے ہیں اور اغیار آپ کی حکمت کو خراجِ عقیدت پیش کرنے پر مجبور ہیں۔ آپ کے عہد مبارک میں متعدد فتوحات ہوئیں اور مملکت اسلامیہ کی توسیع ہوئی۔ آپ نے اسلام کے دعوتی کاز کو بہ احسن طریق آگے بڑھایا اور کافی تعداد میں بے نور دل اسلام کے نور سے منور و روشن ہو گئے۔ 

تحریک ارتداد کا خاتمہ، ایام عسرت میں مال سے اسلام کی مدد، اور بے پناہ سیاسی تدبر جس کی بنیاد مومنانہ فراست پر تھی یہ آپ کے وہ کارنامے ہیں جن کی مثال نہیں پیش کی جا سکتی۔اس مختصر تحریر میں راقم شانِ صدیقی کے ان جلوؤں کو واضح کرے گا جو اعتراف کے ذیل میں آتے ہیں، اپنے تو آپ کی شان و عظمت، وجاھت و علم، فہم و فراست کے قایل ہیں ہی اور بے گانے بھی اعتراف پر مجبور ہیں، ان میں مستشرقین بھی ہیں، اور مغربی مصنفین بھی اور متعصب مؤرخین بھی، اغیار کے تاثرات کی ایک جھلک دیکھیں:

(۱) سر ولیم میور: یہ بڑا متعصب مؤرخ گزرا ہے، اپنی کتاب The Caliphate its Rise, Decline and Fall میں لکھتا ہے: ’’(حضرت) ابوبکر (صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ) کے قلب و ذہن میں شخصی جاہ و حشمت کا خیال تک نہ تھا، حالاں کہ وہ شاہانہ اختیارات کے مالک تھے اور کسی کے سامنے جواب دہ نہ تھے۔ انھوں نے اپنی ساری طاقت صرف خدمتِ اسلام اور اس کی ترقی و برتری میں صرف کی تاکہ ملت اسلامیہ کو فایدہ ہو۔ (حضرت) ابوبکر (صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ) کی کام یابی کا سب سے بڑا راز (حضرت) محمد (مصطفی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) پر کامل ایمان و ایقان تھا۔‘‘…… اقبالؔ کے الفاظ میں یہ عشق رسول صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہی تھا جس نے شانِ صدیقی کو بلند کیا ؂تازہ میرے ضمیر میں معرکۂ کہن ہواعشق تمام مصطفی، عقل تمام بو لہب(۲) لین پول: مسٹر لین پول اپنی کتاب Studies in a Mosque میں لکھتا ہے: 

’’(حضرت) ابوبکر (صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ) فیصلہ کرتے وقت متین اور عادل ہوتے تھے، وہ دل کے نرم اور کریم النفس تھے، اور خدمت اسلام کے بے لاگ جذبے سے سرشار۔‘‘(۳) ایڈورڈ گبن: یہ مصنف حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی قناعت و فیاضی کے باب میں اپنی کتاب History of the Saracensمیں لکھتا ہے: 

’’(حضرت) ابوبکر (صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ) نے اپنا وظیفہ تین درہم، اس قدر غذا اور دیگر ضروریات کو کافی سمجھا جس سے وہ ایک اونٹ اور حبشی غلام کی پرورش کر سکیں، آپ ہر ہفتے جمعۃالمبارک کو بہت مستحق اور مفلس مسلمانوں میں اپنی اور بیت المال کی رقم تقسیم فرماتے۔ (حضرت) ابوبکر (صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ) کے وصال پر جب آپ کے جانشین (حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ) کو صرف موٹے کپڑے کا ایک جوڑا ورثے میں ملا تو انھوں نے بڑی مسرت کے ساتھ فرمایا: ایسی شان دار مثال سے بہتر اور بڑھ کر مثال قایم کرنا نا ممکن ہے۔‘‘

(۴) ڈاکٹر ویل: ڈاکٹر موصوف اپنی کتاب A History of the Islamic peopleمیں لکھتے ہیں: ’’(حضرت) ابوبکر (صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ) کی نجی زندگی اور عہد حکومت ایسا گزرا ہے جس پر …… انگشت نمائی نا ممکن ہے…… (حضرت) ابوبکر (صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ) نرم دل، سادہ مزاج اور متقی و پرہیز گار تھے۔‘‘ایسے تاثرات اگر یک جا کیے جائیں تو دفتر پُر ہو جائیں…… سچ ہے شانِ صدیقی ایسی پاکیزہ و مثالی ہے کہ دشمن بھی آپ کی صداقت و عظمت کی گواہی دینے پر مجبور ہے الفضل ما شھدت بہ الاعداء اور یہ بھی صحیح ہے ’’مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری‘‘…… اور ہمیں اپنے اس عظیم پیشوا اور صداقت و سچائی کے پیکر سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی شان میں امام احمد رضاؔ محدث  کے الفاظ میں یوں نذر پیش کرنا چاہیے ؂
islamiart.com  

1 comment :