بسم الله الرحمن الرحيم

Monday, 17 April 2017

The Technology of Modern Era Has Taken time of Kids from their Parents..| Urdu Article

جدید دور کی برق رفتاری نے والدین سے بچوں کاوقت بھی چھین لیا

جدید دور کی برق رفتاری نے والدین سے بچوں کاوقت بھی چھین لیا

ایک زمانہ تھا کہ دودھ پیتے بچے جب رویا کرتے تھے تومائیں انہیں بہلانےکےلیے لوری سنایا کرتی تھیں، بچوں کی نظمیں گایا کرتی تھیں، ان کاجی بہلانے کےلیے بچوں کےسے توتلے انداز میں باتیں کیاکرتی تھیں، فضاؤں میں اڑتے پرندے دکھاکر بہلانے کی کوشش کرتی تھیں، پیار بھرے انداز میں بچوں کوکبھی چاند کبھی پھول کبھی تارے نیز طرح طرح کےخوبصورت ناموں سے پکارا کرتی تھیں کہ سننے والے کا بھی دل واری ہو جاتا تھا۔انہیں پریوں، شہزادیوں اور بادشاہوں کی چھوٹی چھوٹی دلچسپ کہانیاں 
سنایا کرتی تھیں۔

والیدین دلچسپ کہانیاں سنایا کرتی تھیں۔
Father Love

 
اس میں شک نہیں کہ ان چیزوں کی بچے کوسمجھ تونہ آتی تھی لیکن بچہ بہل ضرور جاتا تھا، لاشعوری طور پر متوجہ رہتاتھا کہ ماں اس کےساتھ پھر اٹکھیلیاں کرے اور پیار بھرے معصومانہ انداز میں اس سے مخاطب ہو، بچوں کو والدین کی محبت کااحساس ہوتا تھا، اپنائیت بڑھتی تھی، احترام اور انس میں اضافہ ہوتاتھا، باتوں باتوں میں بچے کئی کچھ سیکھ جایاکرتے تھے
یہ تمام ماحول اور طریقہ کار عین فطری تھا 
ہے۔ لیکن جدید دور کی برق رفتاری نے والدین سے بچوں کاوقت بھی چھین لیا
اب بچہ روتاہے تو ماں ٹی وی کےسامنے بٹھا دیتی ہے، موبائل پر گیم لگاکر چپ کروانے کی کوشش کرتی ہے، طرح طرح کےکارٹون دکھاکر بہلانے کےنام پر جان چھڑا لیتی ہے
یہی وجہ ہے کہ بچہ جب ذرا بڑا ہوتا ہے تو والدین کےساتھ اس کاتعلق روایتی نہیں ہوتا 
انس اپنائیت محبت کاوہ عالم نہیں ہوتا جس کےنظارے ہمارے بچپن میں ہوا کرتے تھے
بچوں کےاندر معصومیت اور بچپنا وقت سے کہیں پہلے معدوم ہوجاتاہے
 جوسوال بچے کو پندرہ سال کی عمر میں کرنے تھے،اب چھ سال کی عمر میں کرنے لگتاہے
ہم بے شک جدید دور کی تمام ایجادات اور سہولیات سے فائدہ اٹھائیں لیکن خدارا بچوں کو ان کافطری ماحول فراہم کریں   ان کےبچپنے سے محظوظ ہونےدیں
ان کی تربیت کی ذمہ داری خود اٹھائیں، موبائل ٹی وی انٹرنیٹ کےحوالے نہ کریں

اگرہم نے ایسا نہ کیا تو اس کاسب سے زیادہ نقصان ہم والدین ہی کو اٹھانا پڑےگا کیونکہ ہم نے بچوں پر
والدین کے حقوق ازبرکیے ہوئےہیں اور بہت ساری توقعات کےساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
                                                        

2 comments :