بسم الله الرحمن الرحيم

Saturday, 15 April 2017

VOYEUR THIS CURSE IS SPREADING DAY BY DAY IN OUR YOUNG GENERATION | IN Urdu

فحش نظری (voyeur) نوجوان نسل میں پھیلتا ایک ناسور


فحش نظری (voyeur) نوجوان نسل میں پھیلتا ایک ناسور   

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
ان سے ملیے یہ بھائی کالج کے طالب علم ہیں۔۔فیسبک پر شغل فرماتے ہیں اور مسلسل فرماتے ہیں۔ ایک روز سرفنگ کے دوران ڈیٹنگ کی ویب سائٹ کے اشتہار پر نظر پڑی جو کے بار بار دعوت گناہ دے رہی تھی۔۔انھوں نے سوچا کہ کیوں نا اس کو بھی آج چیک کیا جاۓ۔۔۔دو گھنٹے بعد انتہائی شرمندگی اور ڈپریشن کے عالم میں سسٹم آف کیا لیکن ابلیس کا وار کامیاب ہو ہی چکا تھا۔۔دو دن بعد یہی کاروائی دہرائی گئی اور آخر کار انکو بھی پورن دیکھنے (فحش فلمیں دیکھنا) کی لت لگ چکی تھی۔۔


 یہ بھائی دین دار ہیں کسی مدرسے یا مذہبی جماعت کے ساتھ منسلک ہیں۔۔ڈیلی موشن یا کسی اور ویب سائٹ پر دوران سرفنگ کسی بیہودہ ویڈیو پر نظر پڑی شیطان نے سرگوشی کی یار دیکھ لو ایک دفعہ سے کیا ہوتا ہے۔۔لیکن اب وہ ایک دفعہ وبال جان بن چکا ہے ۔۔اللہ سے توبہ بھی روز ہوتی پے لیکن گناہ ہے کہ پیچھا چھوڑتا نہیں۔۔۔چہرے پر سنت رسول سجاۓ با عمل مسلمان بھی اس غلاظت میں گر چکا ہوتا ہے۔ اللہ کریم بڑے ستار ہیں پردہ پوشی فرماتے ہیں لیکن ہم میں سے ہر ایک کو اپنا حال معلوم ہی ہے۔۔
 

ان دو مثالوں کے علاوہ متعدد مثالیں ایسی ہیں جو واضح کرتی ہیں دنیا کو گلوبلائز کرنے کا دعوے دار انٹرنیٹ جہاں بہت سارے فائدے لایا ہے وہیں اس کے نقصانات بھی کم نہیں۔پورنو گرافی (فحش فلمیں دیکھنا) ایک ایسا سنگین مسئلہ ہے جس نے نوجوان نسل کو نا صرف معاشرتی بے راہ روی پر مجبور کیا ہے بلکہ ایک ایسا بھیڑیا بنا دیا ہے جو ہوس پورا کرنے کو ہی اپنا مقصد عین سمجھتا ہے۔۔ فحش نظری (voyeur) کا شکار عمومی طور پر غیر شادی شدہ نوجوان ہوتے ہیں لیکن بڑی عمر کے افراد کی تعداد بھی کچھ قلیل نہیں ہے۔۔


فحش نظری (voyeur) نامی بدی نے خاندان کے خاندان اجاڑ کر رکھ دیے ہیں اور ہمارے نوجوان سے قوتِ عمل سلب کر کے رکھ دی ہے۔ ( الا ما رحم ربی (
 
آئیے سب سے پہلے اس بیماری کا دنیاوی نکتہ نظر سے محاسبہ کرتے ہیں۔۔بنیادی طور پر ایک صحتمند معاشرے کو اس برائی نے ایسے جوہڑ میں دھکیلا ہے جس نے نوجوانوں کی صحت کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔اطباء کے مطابق یہ غلیظ بیماری اور اس سے پیدا ہونے والی برائیاں انسان کے دل، گردے، دماغ، آنکھیں اور جنسی اعضا کو نا قابل یقین حد تک متاثر کرتی ہیں۔اسی فیصد بانجھ پن پورنوگرافی اور اس کے نتیجے میں سرزد ہونے والے مضر صحت گناہوں سے پیدا ہوتا ہے۔ وقتی لذت حاصل کرنے کے بعد 
انسان غصے، شرمساری، ڈیپریشن اور مایوسی کی ملی جلی کیفیات کے ساتھ زندگی کی طرف لوٹتا ہے۔۔

بے نور چہرے لیے نوجوان اب خلاؤں میں اپنے عہد رفتہ کا عروج تلاش کرتے عملی زندگی سے کوسوں دور نکل چکے ہوتے ہیں۔مزید یہ کہ روحانی طور پر انسان کھوکلھلا ہو چکا ہوتا ہے۔۔مخالف جنس اس کے لیے ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی بجاۓ ایک ایسی چیز بن جاتی ہے جس سے صرف ہوس کی آگ بجھائی جا سکے۔

 
جسمانی نقصان کے علاوہ پورنوگرافی کے روحانی نقصانات بھی بے شمار ہیں۔پورنوگرافی اور اس کے نتیجے میں سرزد ہونے والے گناہوں سے انسان کا چہرہ ایمان کے نور سے محروم ہو جاتا ہے اور آہستہ آہستہ نیکیوں کی استعداد بھی چھنتی جاتی ہے۔تقوی تو نام ہی پاکیزگی کا ہے اور نفس کی پاکیزگی حقیقی کامیابی کی ضامن ہے۔بقولہ تعالی "قد افلح من تزکی" یعنی جس نے تزکیہ کیا وہ کامیاب ہو گیا سو فحاشی و منکرات سے بچے بغیر پاکیزگی بھلا کیونکر ممکن ہو سکتی ہے.مسلمان کے لیے تو ہدایت کا منبع کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ ہی ہے۔
آئیے علمِ وحی کے نور میں اس صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہیں
اللہ سبحانہ و تعالی کا ارشاد ہے۔

 "
اللہ حکم کرتا ہے انصاف کرنے کا اور بھلائی کرنے کا اور قرابت والوں کے (کو) دینے کا اور منع کرتا ہے بے حیائی سے اور نامعقول کام سے اور سرکشی سے تم کو سمجھاتا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔"
 
اللہ سبحانہ نے اس آیت میں منع تین چیزوں سے کیا ۔ فحشاء ، منکر ، بغی۔ کیونکہ انسان میں یہی تین قوتیں ہیں جن کے بے موقع اور غلط استعمال سےساری خرابیاں اور برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ "فحشاء" سے وہ بے حیائی کی باتیں مراد ہیں جن کا منشاء شہوت اور حیوانی خواہشات کی تکمیل ہے۔پورنوگرافی بھی حیوانی لذات کی چاہ میں زنا کی سیڑھی کے طور پر انسان کا ایمان چوری کرنے کی کوشش کرتی ہے۔۔ "منکر" ہر وہ نامعقول کام جن پر فطرت سلیمہ اور عقل صحیح انکار کرے سو اس غلیظ برائی کو کونسی عقل صحیح تسلیم کرے گی۔"بغی" تو ہے ہی کھلی سرکشی کہ اس غلاظت سے انسان آبرو کا بھوکا درندہ بن جاتا ہے۔ 


 
الحاصل آیت میں تنبیہ فرما دی کہ انسان جب تک ان تینوں قوتوں کو قابو میں نہ رکھے اوراللہ کی عطا کردہ عقل کو وحی کے تابع کر کے ان سب پر حاکم نہ بنائے ، مہذب اور پاک نہیں ہو سکتا۔۔
 
ابن کثم بن صفی نے اس آیت کریمہ کو سن کر اپنی قوم سےکہا "میں دیکھتا ہوں کہ یہ پیغمبر تمام عمدہ اور اعلیٰ اخلاق کا حکم دیتے ہیں اور کمینہ اخلاق اور اعمال سے روکتے ہیں۔ تو تم اس کے ماننے میں جلدی کرو۔(یعنی تم اس سلسلہ میں سر بنو ، دم نہ بنو) حضرت عثمان بن مظعون فرماتے ہیں کہ اسی آیت کو سن کر میرے دل میں ایمان راسخ ہوا اور محمد ﷺ کی محبت جا گزیں ہوئی۔
 
اس پر مستزاد یہ کہ آقا و مولا ﷺ کے فرامین کی روشنی میں دیکھیں کہ الحیا من الایمان جیسی تنبیہات اور "اگر تم حیا نا کرو تو جو چاہے کرو" جیسی وعید کی روشنی میں ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں، اپنا ایمان اور اس ایمان کے بل پر کھڑی اعمال کی عمارت کو ٹٹولنے کی اشد ضرورت ہے۔
 
اب آتے ہیں اس مسئلہ کی جانب کہ اعمال و اسباب کے درجے میں اس غلیظ لت کو ترک کرنے کیلیے کیا اسباب اختیار کیے جائیں کہ تزکیہ نفس ہو جائے اور باحیا و صالح زندگی کی جانب لوٹنا ممکن ہو۔

 
اول یہ انسان اپنے اوپر لازم کر لے کہ کہ نماز با جماعت کسی حال میں بھی چھوٹنے نا پائے، آنکھوں کی ٹھنڈ ک، دل کی راحت، سارے جسم کا سکون، فواحشات و منکرات کو روکنے والی اور بلاؤں کو ٹالنے کا وسیلہ بننے والی یہی نماز ہی تو ہے۔ دوئم یہ کہ انسان اپنی بدعملی پر صدقِ دل اور امید و رجاء کیساتھ نادم ہو کر مالک کے سامنے جھکے، گڑگڑا کر معصیت سے عافیت کی جانب لوٹنا طلب کرے کہ حقیقی قبولیت تو رب کی بارگاہ سے ہی ممکن ہے۔ دلوں کا چین اللہ کے ذکر میں ہے اور ذکر اللہ کی عادت عموما اہل اللہ کی صحبت سے ہی نصیب ہوتی ہے سوانسان ذکر اللہ اور صحبت اہل اللہ کو اپنا شعار بنائے، جتنے بھی گناہ ہو جائیں انسان نیکی کے کام اس سے بڑھ کر جاری رکھے کہ نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں۔
 
پھر یہ کہ انسان حتی الوسع سکرینی زندگی ترک کر کے حقیقی زندگی کی جانب لوٹے، کسی بھی قسم کی سکرین (لیپ ٹاپ، موبائل، ٹی وی وغیرہ) سے ممکن حد تک اجتناب برتے اور غیر ضروری تو قریب بھی نا پھٹکنا چاہیے۔ کھانے پینے کے اوقات اور روز مرہ کی روٹین کو اعتدال پر لایا جائے، محدود مدت کیلیے خلوت میں بیٹھنا ترک کر دے، باوضو رہنے کی عادت ڈالیے اور اپنی بساط میں مشتبہہ اور مشکوک چیزوں کو بھی چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ مشتبہات اکثر اوقات حرام کا دروازہ ثابت ہوتا هے.
منقول
                  ( This Article is also available in English in Islamiart.com)

Post a Comment