بسم الله الرحمن الرحيم

Thursday, 27 April 2017

What are the Islamic Jurisdictions to Celebrate Birthdays| Urdu Article

سالگرہ منانےکا اسلام میں شرعاً کیا حکم ہے؟

سالگرہ منانےکا اسلام میں شرعاً کیا حکم ہے؟  


 سالگرہ منانے کا شرعاً کوئی ثبوت نہیں ہے ،بلکہ یہ دورِ حاضر کی گھڑی ہوئی رسم ہے،نیز اس میں کفار کے ساتھ مشابہت بھی ہے،مسلمانوں نے ان کی دیکھا دیکھی اس کو اپنانا شروع کردیا ،لہذااس سے بچنا ضروری ہےاور اس پر خرچ کیا ہوا پیسہ(خواہ کیک کاٹنے پر خرچ ہو یا دعوت وغیرہ کے اہتمام پر) فضول خرچی میں شمار ہوگا اور ایسی مجلس میں شرکت کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
(
کذا فی التبویب۴۱الف/۱۸۲۲

سالگرہ کےموقع پر مبارک باد دینے کا شرعاً کوئی ثبوت نہیں ہے اورتحفہ دینا اچھی بات ہے،لیکن سالگرہ کی بنا پر دینا محض فضول رسم ہے جس سے بچنا چاہیے۔
*_وَاللہ اَعْلَمُ

برتھ مناناا ور اگر وہ کیک کوئی لائے اس کا کهانا کیسا ہے ..؟
*بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
*_الْجَواب حامِداوّمُصلّیاً 
اسلام میں اس قسم کے رواج کا کوئی ثبوت نہیں ہے، خیر القرون میں کسی صحابی، تابعی، تبع تابعی یا ائمۂ اربعہ میں سے کسی سے مروجہ طریقہ پر سالگرہ منانا ثابت نہیں، یہ رسم بد انگریزوں کی ایجاد کردہ ہے، ان کی دیکھا دیکھی کچھ مسلمانوں میں بھی یہ رسم سرایت کرچکی ہے، اس لیے اس کو ضروری سمجھنا، ایسی دعوت میں شرکت کرنا اور تحفے تحائف دینا فضول ہے، شریعتِ مقدسہ میں اس کی قطعاً اجازت نہیں۔ (فتاویٰ حقانیہ:) ۲؍۷۵-۷۴

سالگرہ منانےکا اسلام میں شرعاً کیا حکم ہے؟


مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ فرماتے ہے
 برتھ منانا،نہ کتاب وسنت سے ثابت ہے ،نہ صحابہ کرامؓ اور سلفِ صالحینؒ کے عمل سے۔شریعت نے بچوں کی پیدائش پر ساتویں دن عقیقہ رکھا ہے،جو مسنون ہے اور جس کا مقصد نسب کا پوری طرح اظہار اور خوشی کے اس موقع پر اپنے اعزہ و احباب اور غرباء کو شریک کرنا ہے۔برتھ ڈے کا رواج اصل میں مغربی تہذیب کی’بر آمدات‘میں سے ہے،جو حضرت مسیح علیہ السلام کا یومِ پیدائش بھی مناتے ہیں۔آپ ﷺ نے دوسری قوموں کی مذہبی اور تہذیبی مماثلت اختیار کرنے کو ناپسند فرمایا ہے،اس لیے جائز نہیں۔
مسلمانوں کو ایسے غیر دینی اعمال سے بچنا چاہئے۔‘   جدید فقہی مسائل:

دوسرے مقام پر لکھتے ہیں
 ’’اسی طرح یومِ ولادت میں دعوت وغیرہ کااہتمام جسے سالگرہ بھی کہتے ہیں،رسول اللہ ﷺ ،صحابہ کرامؓ اور سلفِ صالحینؒ سے ثابت نہیں۔یہ مغربی اقوام سے متاثر ہونے کا نتیجہ ہے۔چوں کہ اسے دینی عمل سمجھ کر انجام نہیں دیا جاتا،اس لیے اسے بدعت تو نہیں کہہ سکتے،کیوں کہ بدعت کا تعلق امرِ دین سے ہوتا ہے،لیکن غیر مسلموں سے مماثلت اور غیر اسلامی تہذیب سے تاثر اور مشابہت کی وجہ سے کراہت سے بھی خالی نہیں،اس لیے اعتراز کرنا چاہئے۔‘‘(کتاب الفتاویٰ  ۱۴۰۵ :)
 نیزایسی تقریبات میں شریک ہوتے وقت یہ اصول یاد رکھنا چاہیے کہ فضول چیزوں میں شرکت بھی فضول ہے۔جب سال گرہ کی خوشی ہی بے معنی ہے (کہ انسان کی عمر حقیقتاً اس دنیامیں بڑھتی نہیں بلکہ گھٹتی ہے)اس میں شرکت بھی معنیٰ ہے۔اگر کوئی ان تقریبات میں شرکت نہ کرے اور وہ خود جس کی سال گرہ ہو، آکر کیک وغیرہ لاکر دے تو ان کے کھانے کے متعلق حکم یہ ہوگا کہ اگر اس فضول رسم میں شرکت مطلوب ہو تو کھا لیا جائے، ورنہ انکار کر دیا جائے۔ایسے موقعوں پر جنھیں انکار کرنا عجیب لگتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دل ودماغ میں انگریزیت رچ بس گئی ہے۔ایسے موقعوں کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے تحفے تحائف لینا دینا بھی درست نہیں۔(ماخوذ از آپ کے مسائل اور ان کا جدید حل:۲؍۵۱۹-۵۱۸

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، حضرات صحابہٴ کرام وتابعین سے، ائمہ اربعہ سے، بزرگان دین سے جنم دن یا سالگرہ منانے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، یہ غیرقوموں کا طریقہ ہے، ہم مسلمانوں کو غیروں کا طریقہ اپنانا جائزنہیں، نہ ہی اس موقعہ پر مبارکباد دینا درست ہے، ہمیں اسلامی طریقہ پر زندگی گذارنا چاہیے، غیروں کے طریقوں کو اختیار نہ کرنا چاہیے، قرآن کریم میں ہے:
 (وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلاَمِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہ  (فتاوی دارالعلوم دیوبند

سالگرہ منانےکا اسلام میں شرعاً کیا حکم ہے؟

  بعض گھرانوں میں بچوں کی سالگرہ منائی جاتی ہے، رشتہ داروں اور دوست احباب کو مدعو کیا جاتا ہے جو اپنے ساتھ بچے کے لئے تحفے تحائف لے کر آتے ہیں، خواتین و حضرات بلاتمیز محرَم و غیرمحرَم کے ایک ہی ہال میں کرسیوں پر براجمان ہوجاتے ہیں، یا ایک بڑی میز کے گرد کھڑے ہوجاتے ہیں، بچہ ایک بڑا سا کیک کاٹتا ہے اور پھر تالیوں کی گونج میں *”سالگرہ مبارک ہو“* کی آوازیں آتی ہیں، اور تحفے تحائف کے ساتھ ساتھ پُرتکلف چائے اور دیگر لوازمات کا دور چلتا ہے، یہ سب غیروں کی جاری کی ہوئی رسومات ہے اور مذکورہ صورت بہت سے ناجائز اُمور کا مجموعہ ہے۔
  سالگرہ کی رسم میں اگر کوئی بہت ہی قریبی عزیز شرکت کی دعوت دے تو اس میں شرکت کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے کہ فضول چیزوں میں شرکت بھی فضول ہے۔
 
عام حالات میں تحفہ دینا سنت ہے، لیکن سالگرہ کی بناء پر دینا بدعت ہے۔
  سالگرہ کی مبارک باد دینے کے لئے جو کارڈز دئیے جاتے ہیں وہ بھی اسی فضول رسم کی شاخ ہے۔ 
(
ماخذ آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد 8)
 
  سالگرہ یعنی پیدائش سے سال بھر پورا ہونے پرتقریب اور خوشی منانا ، یہ اسلامی تعلیم نہیں ہے، یہ 
غیروں کاطریقہ ہے اس سے پرہیزکرنا چاہئے (فتاوی محمودیہ جلد 5
  سالگرہ کے کیک کا کھانا حرام کے درجہ میں تو نہیں ہے ، البتہ کراہت سے خالی نہیں (فتاوی دارالعلوم دیوبند

 واضح رہے کہ سالگرہ غیر مسلموں کا طریقہ اور مغربی ثقافت کی دین ہے جس کی دین اسلام میں کوئی گنجائش نہیں، نبی کریم ﷺ نے غیروں کی مشابہت سے اجتناب کا حکم دیا ہے ،سالگرہ منانا ، کیک کاٹنا ، سالگرہ کی مبارک باد دینا غیر اسلامی قوموں کے اثرات ہیں اس لیے ایسے رسم ورواج سے بچنا چاہیے۔

Post a Comment