بسم الله الرحمن الرحيم

Monday, 15 May 2017

The Best Example of Hazrat Muhammad Peace be upon him | In Urdu

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مثال:

 

  حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مثال:



نبی اکرم صلی علیہ وآلہ وسلم جب معراج کے وقت بارگاہ الوہیت میں مقام (تدلى) تک پہنچے تو اس قدر باادب اور باوقار انداز میں تھے کہ رب کائنات نے خود گواہی دی:( ما زاغ البصر وما طغى)( النجم :١٨)


"(
پیغمبر کی)آنکھ نہ تو چکرائی اور نہ حد سے آگے بڑھیعلامہ شبیر احمد عثمانی رح اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ "یغنی آنکھ نے دیکھا پورے تمکن واتقان سے دیکھا۔نہ نگاہ (ادب کی وجہ سے )ترچھی ٹیڑھی ہو کر دائیں بائیں ہٹی نہ حد سے تجاوز کرکے آگے بڑھی۔بس اس چیز پر جمی جس کا دکھلانا مقصود تھا ۔بادشاہوں کے دربار میں جو چیز دکھلائی جائے اسے نہ دیکھنا اور جو چیز نہ دکھلائی جائے اس کو تاکنا دونوں عیب  (بےادبی)ہیں۔ 

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں سے پاک تھے۔،، حضرت سلطان محمود غزنوی رح ولی کامل اور بادشاہ وقت تھے۔ان کا نہایت محبوب وزیر ایاز ایک مرتبہ دربار میں حاضر تھا۔اچانک اسے وہم گزرا کہ گریبان کابٹن جلدی کی وجہ سے کھلارہ گیاہے۔چونکہ یہ بات دربارشاہی کے آداب کے خلاف تھی،لہذا فورا اس کا ہاتھ بٹن درست کرنے کے لئے اٹھ گیا۔عین اسی وقت سلطان محمود غزنوی رح کی نظر ایاز پر پڑی تو فرمایا:ایاز ساکت وصامت باادب نفس گم کردہ کھڑارہ گیا ہے۔

یہ تو دنیا کے ایک بادشاہ کے دربار کا حال ہے۔پھر اس احکم الحاکمین کے دربار عالی کا تقاضا ہی یہ تھا کہ نبی اکرم صلی علیہ وآلہ وسلم اس ادب سے حاضر ہوتے جس کی تصویر کشی رب کائناتمازاغ البصر وما طغى کے الفاظ سے کی۔

باقی اعضاء کی حرکت کا تو ذکر ہی کیا،دیدار محبوب کے دوران آنکھ کی ٹکٹکی میں بھی فرق نہ آیا۔قلب کی توجہ بھی وہیں مرکوز رہی۔نی چکرائی اور نہ حد سے آگے بڑھی، سبحان اللہ۔۔۔۔۔! أمام الصوفیاء علامہ قشیری رح نے اس آیتمازاغ البصر وما طغى کو ادب کی درخشندہ مثال سمجھتے ہوے اپنی کتاب میں "باب الادب "کا آغاز اسی آیت سے کیاہے۔


written by: Maulana Syed Javid Ullah

Post a Comment