بسم الله الرحمن الرحيم

Thursday, 18 May 2017

To avoid exposing sins and conveying those to people


گناہوں کو ظاہر کر نے اور لوگوں کو بتانے سے بچنا:





گناہوں کو ظاہر کر نے اور لوگوں کو بتانے سے بچنا:

رسول اللہﷺ کا فرمان ہے، ( کل امتی معا ضیاً الاالمجاہرین وان من المجاہرتہ ان یعمل الر جل باالیل عملاً ثم یُصبح و قد سترہ اللہ علیہ فیقول یا فلان عملت البرحتہ کذا و کذاوقد بات یسترہُ ربُہُ و یصبح یکشِف ستراللہ عنہُ)

"سواے (گناہ) کو ظاہر کرنے والے کے میری ساری امت کے لیےمعافی ہے اور بے شک(گناہوں) کو طاہر کرنے والوں میں وہ شحص بھی ہے جورات کو کو یئ عمل کرتاہےپھر وہ اس علل میں صبح کرتاہے کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اس پر پردہ ڈاللا ہوتا ہے پھروہ کسی بیدے سے کہتاہے اے فلان میں نے رات کو یہ کام کیا ہے حا لنکہ پوری رات اس کے رب نےاس پر پردہ ڈالا تھا پھر بھی وہ صبح کرتے ہی بذات خود اس کو طاہر کر تا ہے جس پر اللہ سبحانہ وتعالی نے پردہ ڈالا تھا۔

گناہوں کو ظاہر کرنے والا گویا اپنے گناہ کو ظاہر کر کے لو گوں کے درمیان فحا شی پھلانے میں مدد د یتا ہے
اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے۔
(القران)
ان الزین یحبون ا ن تشیع ا لفا حشۃُ فی الزین آمنو لھم عزابٌا الیمٌ  فی الد نیا و الا خرۃ وا للہ یعلم وا نتُم لا تعلمُون َ
[ پا رہ نمبر ۱۸۔سورۃ النور ایت نمبر۱۹]

ترجمہ
بے شک جو لوگ چا ہتے ہیں کہ ا یمان والو ں میں فحا شی رواج  پا ئے ان کے لئے دنیا و آخرت میں درد نا ک عذاب ہے
اور اللہ سبحانہ وتعالی جا نتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جا نتے اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسا ن جب لوگوں کے نظروں سے دور ہو یا وہ گنا ہ کر کے لوگوں پر ظا ہر کر نے والا نہ ہو تو گنا ہ کرنا جا ئز ہے یا وہ یہ کہے کہ ایسے گناہ کا ار تقا ب کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ سا بقہ حد یث کا معنی ہے کہ اگر انسان سے جان بو جھ کر یا غلطی سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو پھر لوگوں کو اپنے گناہ بتا تا نہ پھرے بلکہ گناہ کو اپنے نفس میں چھپا ئے رکھے اور لوگوں کے
 سا منے اس کو ظاہر نہ کرے اور جب وہ اکیلا ہو تو بھی گناہ کرنے سے بچے ۔
نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے۔

لاعلمنّ اقواماً من امتی یا تون یوم القیا متہ بحسناتٍ ا مثال جبال تھا متہ بیضاء فیجعلھا اللہ عزوجل ھباءً منثورا اما انھم اخونکم ومن جلد تکم و یأخزون من الیل کما تأ خزون ولکنھم قومٌ اذا خلوۡ بمحا رم اللہ ا نتھکو ھا۔
ترجمہ
میں اپنی امت میں ایسی قو موں کو جا نتا ہوں جو قیا مت کے دن تہامہ کے پہاڑوں جییسے نیکیا ں لے کر آئیں گی لیکن اللہ انہیں اڑتا ہوا گردوغبار بنا دےگا یادرکھو وہ تمھا رے ہی بھائی تمھرے قبیلے سے ہی ہوں گے جیسے تم رات کو اللہ کی عبادتکر تے ہو وہ نھی کریں گے لیکن وہ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کی حرمت پا ما ل کر دیں گے۔
گناہوں کو ظاہر کر نے اور لوگوں کو بتانے سے بچنا:

پس ہمیں اعلانیہ گناہ کرنے سے بچنا چاہئے اللہ کی قسم جو ھم  چھپا تے ہیں  یا ظاہر کرتے ہیں سب اللہ سبحانہ وتعالی
 جا نتا ہے کیو نکہ  وہ ہر چیز کو جا ننے  والا  ہے۔

(مئولف) مولا نہ سید فیض اللہ


Post a Comment