بسم الله الرحمن الرحيم

Saturday, 29 July 2017

Jihad in the light of Holy Qurran



جہاد


(۱) وقاتلوافی سبیل آ للّٰہ الذین یقاتلونکم ولا تعتدوا ان اللہ لا یحب المعتدین   (۱۹۰)
* اور تم اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں     کرتا-
  (سورتۂ البقرہ آیت ۱۹۰)

(۲) واقتلوھم حیث ثقفتموھم واخرجوھم من حیث اخرجوکم والفتنتہ اشد من القتل ولا تقاتلوھم عندالمسجدالحرام حتی یقاتلوکم فیہ فان قاتلوکم فاقتلوھم کذالکہ جزاءالکافرین(۱۹۱)
 * ان سے لڑوجہاں بھی تمہارا ان سے مقابلہ پیش آۓ اور انہیں نکالو جہاں سے اُنہوں نے تم کو نکالا ہے-اس لۓ کہ قتل   اگرچہ برا ہے مگر فتنہ اس سے بھی زیادہ برا ہے - اور مسجد حرام کے قریب جب تک وہ تم سے نہ لڑیں ،تم بھی نہ لڑو-  مگر جب وہ وہاں لڑنے سے نہ چوکیں تو تم بھی بے تکلف انہیں مارو کہ ایسے کافروں کی یہی سزا ہے-
 (سورتہ البقرہ آیت ۱۹۱)

(۳) فان انتھوافان اللہ غفوررحیم (۱۹۲)
* پھر اگر وہ باز آجائیں تو جان لو کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے-
 (سورتہ البقرہ آیت ۱۹۲)

(۴) وقاتلوھم حتی لا تکون فتنتہ ویکون الدین للّٰہ فان انتھو افلا عدوان الا علی الظلمین(۱۹۳)
* تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کیلۓ ہو جاۓ ، پھر اگر وہ باز آجائیں تو سمجھ لو کہ ظالموں کے سوا اور کسی پردست درازی روا نہیں۔ 
 (سورتہ البقرہ آیت ۱۹۳)
Mujahideen Ansar Dine are fighting on the back of DShK


(۵) الشھر الحرام بالشھر الحرام والحرمت قصاص فمن اعتدی علیکم فاعتدواعلیہ بمثل ما اعتدی علیکم واتقواللہ واعلموا ان اللہ مع المتقین(۱۹۴)

ماہ حرام کا بدلہ ماہ حرام ہی ہے اور تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کے ساتھ ہوگا، لہٰزا جو تم پردست درازی کرے تم بھی اسی طرح اس پردست درازی کرو۔ البتہ اللُہ سے ڈرتے رہو اور یہ جان لو کہ اللہ انہی لوگوں کے ساتھ ہے جو اُس کی حدود توڑنے سے پرہیز کرتے ہیں۔
 (سورتہ البقرہ آیت ۱۹۴)


(۶) کتب علیکم القتال وھو کرہ لکم وعسی ان تکرھوا شیا وھو خیر لکم وعسی ان تحبواشیا وھو شر لکم  واللہ یعلم وانتم لا تعلمون(۲۱۶)
* تمہیں جنگ کا حکم ےیا گیا ہے اور تمہیں ناگوار،ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناگوار ہو اور وہی تمہارے لۓ بہتر ہو اور   ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لۓ بری ہو، اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ 
  (سورتہ البقرہ آیت ۲۱۶)


(۷)یسئلونک عن الشھرالحرام قتال فیہ قل قتال فیہ کبیر وصد عن سبیل اللہ وکفرم بہ والمسجد الحرام واخراج اھلہ منہ اکبر عنداللہ والفتنتہ اکبر من القتل ولا یزالون یقاتلونکم حتی یردوکم عن دینکم ان استطاعوا ومن یرتدد منکم عن دینہ فیمت وھو کافر فاولئک حبطت اعمالھم فی الدنیا والاخرتہ واولئک اصحب النار ھم فیھا خالدون(۲۱۷)

* لوگ پوچھتے ہیں ماہ حرام میں لڑنا کیسا ہے؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ دیں اس میں لڑنا بہت برا ہے مگر راہ خدا سے   روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجد حرام کا راستہ خدا پرستوں پر بند کرنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے برا ہے اور فتنہ، خونریزی سے شدید تر ہے۔ وہ تو تم سے لڑتے ہی جائیں گے حتی کہ اگر ان کا بس چلے تو تمہیں اس دین سے پھیر لے جائیں (اور خوب سمجھ لو) تم میں سے جو کوئی اس دین سے پھرےگا اور کفر کی حالت میں جان دیں گا، اس کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہو جائیں گے۔ ایسے سب لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے۔ 

(سورتہ البقرہ آیت ۲۱۷)

(۸) ان الذین امنواوالذین ھاجرواوجاھدوا فی سبیل اللہ اولئک یرجون رحمت اللہ واللہ غفور رحیم (۲۱۸)

* بخلاف اس کے جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے خدا کی راہ میں اپنا گھر بار چھوڑا اور جہاد کیا ہے،وہ رحمت الہی کے  جائز اُمیدوار ہیں اور اللہ ان کی لغزشوں کو معاف کرنے والا اور اپنی رحمت سے انہیں نوازنے والا ہے۔ 
(سورتہ البقرہ آیت ۲۱۸)


(۹) وقاتلوا فی سبیل اللہ واعلمو ان اللہ سمیع علیم (۲۴۴)

* مسلمانو! اللہ کی راہ میں جنگ کرو اور خوب جان رکھو کہ اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ 

  (سورتہ البقرہ آیت ۲۴۴)


(۱۰) یا یھاالذین امنوا لا  تکونوا کاالذین کفر وا وقاتلوا لاخوانھم اذا ضربوا فی الارض او کانوا غزی لو کانوا عندنا ما ماتو ا وما قتلوا لیجعل اللہ ذلک حسرتہ فی قلوبھم واللہ یحیی ویمیت واللہ بما تعلمون بصیر (۱۵۶) ولئن قتلتم فی سبیل اللہ او متم لمغفرتہ من اللہ ورحمت خیر مما یجمعون (۱۵۷) ولئن متم او قتلتم لالی اللہ تحشرون (۱۵۸)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کافروں کی سی باتیں نہ کرو ، جن کے عزیز واقارب اگر کبھی سفر پر جاتے ہیں یا جنگ میں شریک ہوتے ہیں( اور وہاں کسی حادثہ سے دو چار ہو جاتےہے) تو وہ کہتے ہیں اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مارے جاتے نہ قتل ہوتے۔ اللہ اس قسم کی باتوں کو ان کے دلوں میں حسرت واندوہ کا سبب بنا دیتا ہے ورنہ دراصل مارے اور جلانے والا تو اللہ ہی ہے اور تمہاری تمام حرکات پر وہی نگران ہے۔ اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مر جاؤ تو اللہ کی جو رحمت اور بخشش تمہارے حصہ میں آۓ گی وہ ان ساری چیزوں سے زیادہ بہتر ہے جنہیں یہ لوگ جمع کرتے ہیں۔ خواہ تم مرو یا مارے جاؤ بہر حال تم سمٹ کر جانا اللہ ہی کی طرف ہے۔ 

 ( سورتہ آل عمران آیت ۱۵۶ تا ۱۵۸) 


(۱۱) یایھاالذین امنوا خذوا حذرکم فانفروا ثبات او انفروا جمیعا(۱۷۱) وان منکم لمن لیبطئن فان اصابتکم مصیبت قال قد انعم اللہ علی اذلم اکن معھم شہیدا(۷۲) ولن اصابکم فضل من اللہ لیقولون کان لم تکن م بینکم وبینہ مودتہ یلیتنی کنت معھم فافوز فوزا عظیما (۷۳) فلیقاتل فی سبیل اللہ الذین یشرون الحیاتہ الدنیا بالاخرتہ ومن یقاتل فی سبیل اللہ فیقتل او یغلب فسوف نوتیہ اجرا عظیما(۷۴)

※ اے اللہ جو ایمان لاے ہو!مقابلہ کیلے ہر وقت تیار رہو -پہر جیسا موقع ہو الگ الگ دوستو ں کی شکل میں نکلویااکھٹے ھو کر -ھاں تم میں کوی کوی آدمی ایسا بھی ھے جو لڑای سے جی چراتا ہے -اگر تم پر کوی مصیبت آے تو کہتا ہے اللہ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ نہ گیا اور اگر اللہ کی طرف سے تم پر فضل ہو تو اس طرح کہتا ہے کہ گویا تمہارے اور اس کے درمیان محبت کا تو کوی تعلق تھا ہی نہیں ،کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑا کام بن جاتا(ایسے لوگوں کو معلوم ہو کہ)اللہ کے راہ میں لڑنا چاہیے ان لوگوں کو اخرت کے بدلے دنیا کی زندگی کو فروخت کر دیں -پھر جو اللہ کی راہ میں لڑے گا یا غالب رہے گا اسے ضرور ہم اجر عظیم عطا کریں گے- 

 (سورتہ النساء آیت ۷۱تا۷۴)

(۱۲)وما لکم لا تقا تلون فی سبیل اللہ والمستضعفین من الرجال والنساء والولدان الذین یقولون ربنا آخرجنا من ھذہ القریتہ الظالم آھلھا واجعل لنا من لدنک ولیا وجعل لنا من لدنک نصیرا(۷۵) الذین امینو یقاتلون فی سبیل اللہ والذین کفرو ایقتلون فی سبیل الطاغوت فقاتلواآولیاء الشیطان ان کیداالشیطان کان ضعیفا(۷۶)

*آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بےبس مردوں ،عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو کمزور پاکر دبالے گے ہیں اور فریاد کررہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں -اور اپنی طرف سے ہمارا کوی حامی و مددگار پیدا کر دے-جن لوگوں نے ایمان کا راستہ اختیار کیا ہے وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں اور کافر طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں ،پس شیطان کے ساتھیوں سے کڑو اور یقین جانو کہ شیطان کی چالیں حقیقت میں نہایت کمزور ہیں- 
              
 (سورتہ النساء ایت ۷۶)

(۱۳) فقاتل فی سبیل اللہ لا تکلف الا نفسک وحرض المومنین عسی اللہ ان یکف باس الذین کفروا واللہ اشد باسا واشد تنکیلا(۸۴) من یشفع شفاعہ حسنتہ یکن لہ نصیب منھا ومن یشفع شفاعہ سیہ یکن لہ کفل منھا وکان اللہ علی کل شیء مقیتا (۸۵)

※ پس اے نبی! آپ اللہ کی راہ میں لڑیں آپ اپنی ذات کے سوا کسی اور کے ذمہ دار نہیں ہیں البتہ اہل ایمان کو لڑنے کیلے  اکسایں بعید نہیں کہ اللہ کافروں کا زور توڑ دے-اللہ کا زور سب سے زیادہ زبردست اور اس کی سزا سب سے زیادہ سخت ہے- جو بھلای کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پاے گا اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے※

 (سورتہ النساء ایت ۸۴ تا ۸۵)

(۱۴)  لا یستوی القاعدون من المومنین عیر اولی الضرر والمجاھدون فی سبیل اللہ بامولھم وانفسھم فضل اللہ المجاھدین باموالھم واانفسھم علی القاعدین درجہ وکلا وعداللہ الحسنی وفضل اللہ المجاھدین علی القاعدین اجر عظیما (۹۵) درجات منہ و مغفرت ورحمتہ وکان اللہ غفورا رحیما (۹۶)

※ مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو کسی معذوری کے بغیر گھر بیٹھے رہیے ہیں اور وہ جو اللہ کی راہ میں جان ومال سے کرتے ہیں دونوں کی حثییت یکساں نہیں ہے-اللہ نے بیٹھے والوں کی بہ نسبت جان ومال سے جہاد کرنے والوں کا درجہ بڑا رکھا ہے-اگر چہ ہر ایک کیلے اللہ نے بھلای ہی کا واعدہ فرمایا ہے مگر اس کے ہاں مجاہدوں کی خدمات کا معاوضہ بھیٹے والوں سے بہت زیادہ ہے-ان کیلے اللہ کی طرف سے بڑے درجے ہیں اور مغفرت اور رحمت ہے اور بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے※

 (سورتہ النساء آیت ۹۵ تا ۹۶)


(۱۵) یایھاالذین امنو اذا لقیتم الذین کفروا زحفا فلا تولوفلا تولو ھم الادبار (۱۵) ومن یولھم یومئذ دبرہ الا متحرفا لقتال او متحیزا الی فئتہ فقد باء بغضب من اللہ وماواہ جھنم وبس المصیر(۱۶)

*اے ایمان لانے والو! جب تم ایک لشکر کی صورت میں کفار سے دوچار ہو تو ان کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرو، جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری الا یہ کہ جنگی چال کے طور پر ایسا کرے یا کسی دوسری فوج سے جا ملنے کیلئے تو وہ اللہ کے غضب میں گھر جاۓگا، اس کا ٹھکانہ جھنم ہوگا اور وہ بہت بری بازگشت ہے۔ 

 (سورتہ الانفال آیت ۱۵ تا ۱۶)




(۱۶) وقاتلوھم حتی لا تکون فتنتہ ویکون الدین کلہ للہ فان انتھوا فان اللہ بما یعملون بصیر(۳۹) وان تولوا  فاعلموا ان اللہ مولا کم نعم المولی ونعم النصیر(۴۰)

*اے ایمان لانے والو! ان کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورے کا پورا اللہ کیلئے ہو جاۓ ، پھر اگر وہ فتنہ سے رک جائیں تو ان کے اعمال کا دیکھنے والا اللہ ہے۔ اور اگر وہ نہ مانئیں تو جان رکھو کہ اللہ تمہارا سرپرست ہے اور بہترین حامی و مددگار ہے۔ 

 (سورتہ الانفال آیت ۳۹تا۴۰)


(۱۷) یایھاالذین آمنوا اذالقیتم فئتہ فاثبتوا واذکرواللہ کثیرا لعلکم تفلحون(۴۵) واطیعوا اللہ ورسولہ ولا تنازعوا فتفشلوا وتذھب ریحکم واصبروا ان اللہ مع الصابرین(۴۶)

※ اے ایمان والوں! جب کسی گروہ سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو، توقع ہے کہ تمہیں کامیابی نصیب ہوگی اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپس میں جھگڑا نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجاےگی اور تمہارے ہوا اکھڑ جاۓ گی- صبر سے کام لو یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے-
(سورتہ الانفال آیت ۴۵ تا ۴۶)

(۱۸) ان شرالدوآب عنداللہ الذین کفروافھم لا یومنون(۵۵) الذین عاھدت منھم ثم ینقضون عھدھم فی کل مرتہ وھم لا یتقون (۵۶) فاما تثقفنھم فی الحرب فشردبھم من حلفھم لعلھم یذکرون (۵۷)

※ یقیناً اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والوں میں سب سے بدتر وہ لوگ ہے جنہوں نے حق کو ماننے سے انکار کر دیا،پھر کسی طرح وہ اسے قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں-خصوصآ ان میں سے وہ لوگ جن کے ساتھ آپ نے معاہدہ کیا، پھر وہ ہر موقع پر اسے توڑتے ہیں اور زرا خدا کا خوف نہیں کرتے- پس اگر یہ لوگ تمہیں لڑائی میں مل جاۓ تو ان کی ایسی خبر لو کہ ان کے بعد جو دوسرے لوگ ایسی روش اختیار کرنے والے ہو اس باختہ ہو جائیں-
 (سورتہ الانفال آیت ۵۵ تا ۵۷)

(۱۹) واعدوا لھم ماا ستطعتم من قوتہ ومن رباط الخیل ترھبون بہ عدواللہ وعدکم واخرین من دونھم لا تعلمونھم اللہ یعلمھم وما تنفقو من شیء فی سبیل اللہ یوف الیکم وانتم لا تظلمون(۶۰)

※ اور تم لوگ جہاں تک تمہارا بس چلے زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلہ کیلے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ اور اپنے دشمنوں کو اور ان کے دوسرے اعداء کو خوف زدہ کر دو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے-اللہ کے راہ میں جو کچھ تم خرچ کروگے اس کا پورا پورا بدل تمہاری طرف پلٹایا جائے گا اور تمہارے ساتھ ہر گز ظلم نہ ہو گا۔
(سورتہ الانفال آیت ۶۰ )

(۲۰) یایھا النبی حرض المئومنین علی القتال ان یکن منکم عشرون صابرون یغلبوا مئتین وان یکن منکم مئتہ یغلبوا الفا من الذین کفروا بانھم قوم لا یفقھون (۶۵)

※ اے نبی! مومنوں کو جنگ پر ابھاریں، اگر تم میں سے بیس آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر سو آدمی ایسے ہوں تو منکرین حق میں سے ہزار آدمیوں پر بھاری رہیں گے کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے-
                        
 (سورتہ الانفال آیت ۶۵)

(۲۱) فاذا انسلخ الا شھرالحرم فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم وخذوھم واحصروھم واقعدوا لھم کل مرصد فان تابوا واقاموا الصلوتہ واتوا الزکاتہ فخلوا سبیلھم ان اللہ غفور رحیم (۵)

※ بس جب حرام مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں پاؤ اور انہئیں پکڑو اور گھیرو اور ہر گھات میں ان کی خبر لینے کلئیے بیٹھو۔ پھر اگر توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوتہ دیں تو انہیں چھوڑ دو، اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ 

(سورتہ التوبہ آیت ۵) 


(۲۲) لا یرقبون فی مومن الا ولا ذمتہ و اولئک ھم المتعدون(۱۰)  فان تابوا واقاموا الصلوتہ واتوالزکوتہ فاخوانکم فی الدین ونفصل الایات لقوم یعلمون(۱۱) وان نکثوا ایمانھم من بعد عھدھم وطعنوا فی دینکم فقاتلوا اءمتہ الکفر انھم لا ایمان لھم لعلھم ینتھون(۱۲) 

※کسی مومن کے معاملہ میں نہ یہ قرابت کا لحاظ کرتے ہے اور نہ کسی عہد کی ذمہ داری کا اور زیادتی ہمیشہ انہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ پس اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوتہ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں اور جاننے والوں کے لئے ہم اپنے احکام واضح کۓ دیتے ہیں اور اگر عہد کرنے کے بعد یہ پھر اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر حملے کرنے شروع کردیں تو کفر کے علمبرداروں سے جنگ کرو کیونکہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ شاید کہ ( پھر تلوار ہی کے زور سے) وہ باز آئیں گے۔ 

(سورتہ التوبہ آیت ۱۰ تا ۱۲)


(۲۳) الا تقاتلون قوما نکثوا ایمانھم و ھموا با خراج الرسول وھم بداوکم اوّل مرتہ اتخشونھم فاللہ احق ان تخشعوہ ان کنتم مومنین (۱۳) قاتلوھم یعذبھم اللہ بایدیکم ویخزھم وینصرکم علیھم ویشف صدور قوم مومین (۱۴) ویذھب غیظ قلوبھم ویتوب اللہ علی من یشاء واللہ علیم حکیم(۱۵)

※کیا تم نہ لڑو گے ایسے لوگوں سے جو اپنا عہد توڑتے رہے ہے اور جنہوں نے رسول کو ملک سے نکال دینے کا قصد کیا تھا اور زیادتی کی ابتدا کرنے والے وہی تھے؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟  اگر تم مومن ہو تو اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو۔ ان سے لڑو ، اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلواۓ گا اور انہیں ذلیل و خوار کریگا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرےگا اور ان کی قلوب کی جلن کو مٹادےگا اور جسے چاہے گا توبہ کی توفیق بھی دےگا۔ اللہ سب کچھ جاننے والا دانا ہے۔ 

( سورتہ التوبہ آیت ۱۳ تا ۱۵)


(۲۴) قل ان کان اباءکم وابناءکم واخوانکم وازواجکم وعشیرتکم واموال ناقترفتموھا وتجارتہ تخشون کسادھا ومساکن ترضونھا احب الیکم من  اللہ ورسولہ وجھاد فی سبیلہ فتربصوا حتی یاتی اللہ بامرہ واللہ لا یہدی القوم الفاسقین(۲۴) 

※ای نبی! کہہ دیں کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیزواقارب اور تمہارے وہ مال جو تم نے کماۓ ہیں اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑ جانے کا خوف ہے اور تمہارے وہ گھر جو تم پسند کرتے ہو (پسند ہے) تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اسکی راہ جھاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آۓ اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کرتا۔ 

 ( سورتہ التوبہ آیت ۲۴)


(۲۵) قاتلوں الذین لا یومنون باللہ ولا بالیوم الاخر ولا یحرمون ما حرم اللہ ورسولہ ولا یدینون دین الحق من الذین اوتوا آل کتاب حتی یعطوا الجزیتہ عن یدوھم صاغرون(۲۹)

※ جنگ کرو اہل کتاب میں سے ان لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روزاخرت پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اسکے رسول نے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں کرتے اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے اور ان سے لڑو یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔ 

( سورتہ التوبہ آیت ۲۹)


(۲۶) ان عدتہ الشھور عنداللہ اثنا عشر شھرا فی کتاب اللہ یوم خلق السماوات والارض منھا اربعتہ حرم ذلک الدین القیم فلا تظلموا فیھن انفسکم وقاتلوا المشرکین کافتہ کما یقاتلونکم کافتہ واعلموا ان اللہ مع المتقین(۳۶)

※ حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے، اللہ کے نوشے میں بارہ(۱۲)   ہی ہے۔ اور ان میں سے چار مہینے حرام ہیں۔ یہی ٹھیک ضابطہ ہے لہٰزا ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو اور مشرکین سے سب مل کر لڑو جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کئ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔  

( سورتہ التوبہ آیت ۳۶)


(۲۷) یایھاالذین امنو مالکم اذا قیل انفرو فی سبیل اللہ اثاقلتم الی الارض ارضیتم بالحیاتہ الدنیا من الاخرتہ فما متاع الحیاتہ الدنیا فی الاخرتہ الا قلیل (۳۸) الا تنفروا یعذبکم عذابا الیما ویستبدل قوما غیرکم ولا تضروہ شیا واللہ علی کل شیء قدیر(۳۹)

※ اے لوگو جو ایمان لاۓ ہو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لیۓ کہا گیا تو تم زمین سے چمٹ کر رہ گۓ؟ کیا تم نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا ؟ ایسا ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ دنیوی زندگی کا سب سروسامان آخرت میں بہت توڑا نکلے گا۔ تم نہ اٹھو گے تو خدا تمہیں دردناک سزا دے گا اور تمہاری جگہ کسی اور گروہ کو اٹھاۓ گا اور تم خدا کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ 

( سورتہ التوبہ آیت ۳۸ تا ۳۹) 


(۲۸) انفروا خفافا وثقالا وجاھدوا باموالکم وانفسکم فی سبیل اللہ ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون۴۱) 

※ نکلو خواہ ہلکے ہو یا بوجھل اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ، یہ تمہارے لۓ بہتر ہے اگر تم جانو۔ 

( سورتہ التوبہ آیت ۴۱)


(۲۹)  انما یستئاذنک الذین لا یئومنون باللہ والیوم الاخر وارتابت قلوبھم فھم فی ریبھم یترددون (۴۵)

※ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو کھبی تم سے یہ درخواست نہ کریں گے کہ انہیں اپنی جان ومال کے ساتھ جہاد کرنے سے معاف رکھا جائے- اللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے-جو اللہ اور روز آخر پر ایمان نہیں رکھتے، جن کے دلوں میں شک ہے اور وہ شک ہی میں متردد ہو رہے ہیں-

(سورتہ التوبہ آیت (۴۵)

(۳۰) یایھا النبی جاھد الکفار والمنافقین واغلظ علیھم وماوھم جھنم وبئس المصیر (۷۳)

※ اے نبی! کفار اور منافقین دونوں کا پوری قوت سے مقابلہ کریں اور ان کے ساتھ سختی سے پیشں آئیں، آخر کار ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور بدترین جائے قرار ہے۔

(سورتہ التوبہ آیت ۷۳)

(۳۱) یایھاالذین آمنو قاتلو ا الذین یلونکم من الکفار ولیجدوا فیکم غلظتہ واعلموا ان اللہ مع المتقین  (۱۲۳)
※ اے لوگو جو ایمان لاے ہو! جنگ کرو ان منکرین حق سے جو تم سے قریب ہیں اور چاہیے کہ وہ تمہارے اندر سختی پائیں اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے-
                                  
 (سورتہ التوبہ آیت ۱۲۳)

(۳۲) وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ ھو اجتباکم وما جعل علیکم فی الدین من حرج ملتہ ابیکم ابرھیم ھو سماکم المسلمین من قبل وفی ھذا لیکون الرسول شھیدا علیکم و تکونوا شھداء علی الناس فاقیموا الصلوتہ واتوا االزکوتہ واعتصموا باللہ ھو مولا کم فنعم المولی و نعم النصیر (۷۸)

※ اللہ کی راہ میں جہاد کر جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔ اس نے تمہیں اپنے کام کیلے چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی ۔ قائم ہو جاؤ اپنے باپ ابرھیم کی ملت پر - اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام مسلم رکھا تھا اور اس (قرآن) میں بھی (تمھارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ - پس نماز قائم کرو، زکوتہ دو اور اللہ سے وابستہ ہو جاو ، وہ ہے تمہارا مولی بہت ہی اچھا ہے وہ مولی اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار- 

(سورتہ الحج آیت ۷۸)

(۳۳) فلا تطع الکافرین وجاھدھم بہ جھادا کبیرا(۵۲) 
※ پس اے نبی! کافروں کی بات ہر گز نہ مانو اور اس قرآن کو لے کر ان کے ساتھ جہاد کبیر کرو۔

(سورتہ الفرقان آیت ۵۲)

(۳۴) والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا وان اللہ لمع المحسنین (۶۹)

※ جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں  ہم اپنے راستے دکھائیں گے اور یقیناً اللہ نیکوکاروں ہی کے ساتھ ہے۔ (سورتہ العنکبوت آیت ۶۹) 

(۳۵) فلا تھنوا وتدعوا الی السلم وانتم الاعلون واللہ معکم ولن یترکم اعمالکم (۳۵)

※ پس تم بودے نہ بنو اور صلح کی درخواست نہ کرو ،تم ہی غالب رہنے والے ہو، اللہ تمہارے ساتھ ہے اور تمہارے اعمال کو ہر گز ضائع نہ کرے گا۔
                           
(سورتہ محمد آیت ۳۵) 

(۳۶) قل للمخلفین من الاعراب ستدعون الی قوم اولی باس شدید تقاتلونھم او یسلمون فان تطیعوا یوتکم اللہ اجرآ حسنا وان تتولوا کما تولیتم من قبل یعذبکم عذابا الیما (۱۶)

※ ان پیچھے چھوڑے جانے والے بدوی عربوں سے کہنا کہ عنقریب تمہیں ایسے لوگوں سے لڑنے کیلئے بلایا جائے گا جو بڑے زور آور ہیں ۔ تم کو ان سے جنگ کرنی ہوگی یا وہ مطیع ہو جائیں گے۔ اس وقت اگر تم نے حکم جہاد کی اطاعت کی تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا اور اگر تم پھر اسی طرح منہ موڑ گئے جس طرح پہلے موڑ چکے ہو تو اللہ کو دردناک سزا دے گا۔
                          
(سورتہ الفتح آیت ۱۶)

(۳۷) فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب حتی اذ اثخنتموھم فشدوا الوثق فاما بعد واما فدآء حتی تضع الحرب اوزارھا ذلک ولو یشاء اللہ لا نتصر منھم والکن لیبلو بعضکم ببعض والذین قتلوا فی سبیل اللہ فلن یضل اعمالھم (۴)

※  پس ان کافروں سے تمہاری مڑ بھیڑ ہو تو پہلا کام گرد نیں مارنا ہے یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو ، اس کے بعد (تمہیں اختیار ہے ) احسان کرو یا فدیے کا معاملہ کرلو تاکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے- 
                         
(سورتہ محمد آیت ۴) 

(۳۸) یایھا الذین آمنوا ان تنصروا اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم (۷) 

※ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط جما دے گا - 
                                 
(سورتہ محمد آیت ۷)

(۳۹) یا یھا الذین امنوا ھل ادلکم علی تجارتہ تنجیکم من عذاب الیم (۱۰) تومنون باللہ ورسولہ و تجاھدون فی سبیل اللہ بامولکم وانفسکم ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون (۱۱) 

※ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! میں بتاؤں تم کو وہ تجارت جو تمہیں عذاب الیم سے بچا دے۔ ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے ، یہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔

(سورتہ الصف آیت ۱۰تا ۱۱)

(۴۰) یا یھا النبی جاھد الکفار والمنافقین واغلظ علیھم وماوھم جھنم وبئس المصیر (۹)

※ اے نبی! کفار اور منافقین سے جہاد کریں اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آئیں، ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔
  
(سورتہ التحریم آیت۹)

Post a Comment