بسم الله الرحمن الرحيم

Thursday, 27 July 2017

Requite of the Respect of the Family of the Holy Prophet (SAW)

آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا صلہ


آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا صلہ


حضرت جنیدؒ بغدادی فنون سپہ سا لا ری یکتا ئے زما نہ تھے۔ خصوصاً پھلوانی میں بڑ ے نا می گرامی۔ ایک بار ایک شخص آیا اور بادشاہ سے کہا میں تمہارے پہلوان سے لڑوں گا۔ باد شاہ نے کہا ہمارا پہلوان زبردست ہےتم دبلے پتلے ہو آدمی بہلا اس سے کیا لڑوگے مگروہ شخص نہ ما نا اور بہت اصر ا ر کیا آخر و نگل ہوا۔
 جب حضرت  جنیدؒ بغدادی خم ٹھو نک کر مقا بل آے اور دونوں کی پکڑ ہو نے لگی تو اس شخص نے چپکے سے ان کے کا ن میں کہا میں سید ہوں محتاج ہو ں آيندہ تم کو اختیا ر ہے۔ حضرت  جنیدؒ بغدادی لڑ تے لڑتے گر پڑے۔ جب تو بڑا شوروغل ہوا۔

باد شاہ نہ مانا ' دوبارہ کشتی کرا ئی پھر بچھڑ گئے۔ تیسری بار کشتی ہوئی پھرچاروں شانہ چت '  آخر با د شاہ نے اس کو انعام دیا اور حضرت  جنیدؒ کو بلا کر پو چھا سچ کہو یہ کیا بات تھی۔ آپ نے اصل حال بیا ن کر دیا ۔ با د شاہ کو بہت تعجب ہوا اور مجمع عام میں اپنی ذلت اور سید کی عزت کو گوارا کی ۔
فی الحقیقت یہ بڑی پہلوانی اور بہادری تھی ٗ  اسی رات جب رسول اللہ ﷺ کو حضرت  جنیدؒ نے خواب میں دیکھا کہ فر ماتے ہیں

شا با ش جنید!  دوسرے روز با دشاہی ملا زمت ترک کی اور فقراء کی جستجو میں پھر نے لگے ۔ آخر اپنے ما موں حضرت
سر ی سقطیؒ  سے بیعت ہوئے

برا دران گرامی! غورفرما ئیں کہ آل رسولﷺ میں سے کسی کی عزت وآبروکے لیے قربانی دینے کا کتنا بڑا صلہ ہے اور اگر کوئی شخص براہ راست حضور نبی کریمﷺ کی عزت ونا موس کے تحفظ کے لیےکوئی قربانی دیتا ہے، تو اس پر اللہ تعالی کی رحمتوں اور نوازشات کا اندازہ کون کرسکتا ہےِ؟

(افضل الا خلاق)
          

Post a Comment