بسم الله الرحمن الرحيم

Sunday, 20 August 2017

Islamic Obligation of hair and nails for those who Sacrify Animals |Qurbani

قربانی کرنے والوں کیلئے ناخن اور بال وغیرہ کا حکم:
Picture Credit to |mianadeelsheikh.c

قربانی کرنے والوں کیلئے ناخن اور بال وغیرہ کا حکم:

قربانی كرنے والوں کیلئے مستحب یہ ہے کہ وہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد سے قربانی کرنے تک اپنے ناخن یا بال نہ تراشیں، بشرطیکہ ان کو تراشے ہوئےچالیس دن نہ ہوئے ہوں، اور اگر چالیس دن ہوگئے تو پھر ان چیزوں کی صفائی ضروری ہے۔اسی طرح اگر مذکورہ چیزوں کی صفائی کو ابھی چالیس دن نہیں ہوئے تھے لیکن اس کے باوجود ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد کسی نے ناخن اور بال وغیرہ کاٹ لئےتو اس پر کوئی گناہ نہیں اور نہ قربانی پر کوئی اثر پڑے گا، کیونکہ مذکورہ حکم کی حیثیت صرف استحباب(کرنے پرثواب اور نہ کرنے پر کوئی گناہ نہیں)کی حد تک ہے۔
نیزقربانی نہ کرنے والوں کیلئے یہ عمل مستحب تو نہیں ہیں لیکن اگر وہ بھی بال اور ناخن کاٹنے میں قربانی کرنے والوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں تواللہ کی رحمت سے امید ہےکہ وہ ثواب سے محروم نہ ہوں گے۔
================
سنن الترمذي - (4/ 102):
عن أم سلمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من رأى هلال ذي الحجة، وأراد أن يضحي، فلا يأخذن من شعره، ولا من أظفاره»
================
مشكاة المصابيح الناشر : المكتب الإسلامي - بيروت (1/ 327):
1459 - [ 7 ] ( صحيح )

وعن أم سلمة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إذا دخل العشر وأراد بعضكم أن يضحي فلا يمس من شعره وبشره شيئا " وفي رواية " فلا يأخذن شعرا ولا يقلمن ظفرا " وفي رواية " من رأى هلال ذي الحجة وأراد أن يضحي فلا يأخذ من شعره ولا من أظفاره " . رواه مسلم
================
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح - (3 / 1080):

(وَأَرَادَ) أَيْ: قَصَدَ. (بَعْضُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ) : سَوَاءً وَجَبَ عَلَيْهِ الْأُضْحِيَّةُ، أَوْ أَرَادَ التَّضْحِيَةَ عَلَى الْجِهَةِ التَّطَوُّعِيَّةِ، فَلَا دَلَالَةَ فِيهِ عَلَى الْفَرْضِيَّةِ، وَلَا عَلَى السُّنِّيَّةِ. وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ: فِي الْحَدِيثِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْأُضْحِيَّةَ غَيْرُ وَاجِبَةٍ ; لِأَنَّهُ فَوَّضَ إِلَى إِرَادَتِهِ حَيْثُ قَالَ: وَأَرَادَ) ، وَلَوْ كَانَتْ وَاجِبَةً لَمْ يُفَوِّضِ اهـ. وَتَبِعَهُ ابْنُ حَجَرٍ....الخ
وَالْحَاصِلُ أَنَّ الْمَسْأَلَةَ خِلَافِيَّةٌ، فَالْمُسْتَحَبُّ لِمَنْ قَصَدَ أَنْ يُضَحِّيَ عِنْدَ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ أَنْ لَا يَحْلِقَ شَعْرَهُ، وَلَا يُقَلِّمَ ظُفْرَهُ حَتَّى يُضَحِّيَ، فَإِنْ فَعَلَ كَانَ مَكْرُوهًا. وَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: هُوَ مُبَاحٌ، وَلَا يُكْرَهُ، وَلَا يُسْتَحَبُّ. وَقَالَ أَحْمَدُ: بِتَحْرِيمِهِ كَذَا فِي رَحْمَةِ الْأُمَّةِ فِي اخْتِلَافِ الْأَئِمَّةِ. وَظَاهِرُ كَلَامِ شُرَّاحِ الْحَدِيثِ مِنَ الْحَنَفِيَّةِ أَنَّهُ يُسْتَحَبُّ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ
================
العرف الشذي للكشميري - (3/ 200):

ومسألة حديث الباب مستحبة والغرض التشاكل بالحجاج ، وأما حديث عائشة فلا يعارض ما ذكرت لأنه بعث الهدي في غير ذي الحجة وما ذكر ما في ذي الحجة .
================
واللہ تعالی اعلم بالصواب

قربانی کے احکام 

قربانی کی فضیلت

قربانی کا بہت ثواب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئی چیز اللہ تعالی' کو پسند نہیں۔ ان دنوں میں یہ نیک کام سب نیکیوں سے بڑھ کر ہے۔ قربانی کرتے وقت خون کا جو قطرہ زمین پر گرتا ہے تو زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی اللہ تعالی' کے ہاں قبول ہو جاتا ہے, لہٰذا خوب خوشی سے اور خوب دل کھول کر قربانی کیا کرو۔

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قربانی کے بدن پر جتنے بال ہوتے ہیں، ہر ہر بال کے بدلے ایک ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔"

سبحان اللہ! اس سے بڑھ کر اور کیا ثواب ہو گا کہ ایک قربانی کرنے سے ہزاروں لاکھوں نیکیاں مل جاتی ہیں۔ بھیڑ کے بدن کے بال اگر کوئی صبح سے شام تک گنے تو بھی نہ گن سکے۔ سوچیں کہ کتنی نیکیاں ہوئیں؟ دینداری کی بات تو یہ ہے کہ اگر کسی پر قربانی کرنا واجب نہ بھی ہو تب بھی اتنا زیادہ ثواب حاصل کرنے کے لیے قربانی کر لینی چاہیے، اس لیے کہ جب یہ دن گزر جائیں گے تو یہ دولت کہاں نصیب ہو گی اور اتنی آسانی سے اتنی نیکیاں کیسے کمائی جا سکیں گی؟ 

اور اگر اللہ نے مالدار اور امیر بنایا ہو تو مناسب ہے کہ جب اپنی طرف سے قربانی کرے تو جو رشتہ دار فوت ہو گئے ہیں، جیسے: ماں باپ وغیرہ ان کی طرف سے بھی قربانی کر دے، تاکہ ان کی روح کو اتنا زیادہ ثواب پہنچ جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے، آپ کی ازواج مطہرات کی طرف سے، اپنے پیر و مرشد وغیرہ کی طرف سے کر دے۔ کم از کم اپنی طرف سے تو ضرور قربانی کرے، کیونکہ مالدار پر قربانی واجب ہے۔ جس کے پاس مال و دولت سب کچھ موجود ہے اور قربانی کرنا اس پر واجب ہے، پھر بھی اس نے قربانی نہیں کی تو اس سے بڑھ کر بدنصیب اور محروم کون ہو گا؟


قربانی کی نیت اور دعا:

قربانی کرتے وقت زبان سے نیت کرنا اور دعا پڑھنا ضروری نہیں۔ اگر دل میں یہ دھیان کر لیا کہ میں قربانی کرتا ہوں اور زبان سے کچھ نہیں پڑھا، صرف "بسم اللہ، اللہ اکبر" کہہ کر ذبح کر دیا تو بھی قربانی درست ہوگئی، لیکن اگر یاد ہو تو دعا پڑھ لینا بہتر ہے۔

*جب قربانی کا جانور قبلہ رخ لٹا دے تو پہلے یہ دعا پڑھے:*

اِنِّیۡ وَجَّہۡتُ وَجۡہِیَ لِلَّذِیۡ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ حَنِیۡفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ۔ قُلۡ اِنَّ صَلَاتِیۡ وَ نُسُکِیۡ وَ مَحۡیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ۔ لَا شَرِیۡکَ لَہٗ ۚ وَ بِذٰلِکَ اُمِرۡتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ۔ اللّٰهُمَّ مِنْکَ وَ لَکَ۔

پھر "بِسْمِ اللَٰهِ اللَٰهُ أَکْبَرُ" کہہ کر ذبح کرے اور ذبح کرنے کے بعد یہ دعا پڑھے: اللہم تقبلہ منی کما تقبلت من حبیبک محمد وخلیلک ابراہیم علیہما الصلوۃ والسلام۔
اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْہُ مِنِّیْ کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِیْبِکَ مُحَمَّدِِ وٙ خَلِیْلِکَ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہھِما الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ۔

1 comment :