بسم الله الرحمن الرحيم

Saturday, 19 August 2017

To Whom it is Obligatory to Sacrify on Eid Ul Adha |Qurbani

چھری پھیرتے وقت بسم اﷲ ، اﷲ اکبرکہیں


قربانی کس پر واجب ہے اور ضرورت سے زائد سامان کی تفصیل

سوال:
السلام علیکم ورحمة اللہ و برکاتہ!
مجھے یہ بتا دیں کہ قربانی کس شخص پر واجب ہے؟ نیز ضرورت سے زائد سامان کی مکمل وضاحت بھی فرما دیں۔

*الجواب حامداً و مصلّیاً*
وعلیکم السلام ورحمة اللہ و برکاتہ!    

 قربانی کس پر واجب ہے؟

قربانی ہر اس مسلمان، عاقل، بالغ مقیم مرد و عورت پر واجب ہوتی ہے، جس کی ملکیت میں ساڑھے باون تولے (612.35گرام) چاندی یا ساڑھے سات تولہ (87.479گرام) سونا ہو یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کا مال اس کی ضرورت اصلیہ سے زائد موجود ہو۔ یہ مال خواہ سونا چاندی یا اس کے زیورات ہوں یا مالِ تجارت یا ضرورت سے زائد گھریلو سامان یا رہائشی مکان سے زائد کوئی مکان وغیرہ ہو۔

قربانی کے نصاب میں درجِ ذیل پانچ چیزوں کا حساب لگایا جائے گا:
(1) سونا
(2) چاندی
(3) نقدی
(4) مالِ تجارت
(5) ضرورت سے زائد سامان

*ضرورت سے زائد سامان کی وضاحت:*

وہ تمام چیزیں جو گھروں میں رکھی رہتی ہیں، جن کی سالہا سال ضرورت نہیں پڑتی، کبھی کبھار ہی استعمال میں آتی ہیں، مثلاً: بڑی بڑی دیگیں ، بڑی بڑی دریاں، شامیانے یا برتن وغیرہ۔ (الفتاویٰ الہندیہ، کتاب الزکاة، الباب الأول فی تفسیر الزکاة:۱/۱۷۴، رشیدیہ)

  1)  رہائشی مکان، پہننے، اوڑھنے کے کپڑے، ضرورت کی سواری اور گھریلو ضرورت کا سامان جو عام طور پر استعمال میں رہتا ہے، یہ سب ضرورت کے سامان میں داخل ہیں، اس کی وجہ سے انسان شرعاً مال دار نہیں ہوتا، یعنی ان کی قیمت نصاب میں شامل نہیں کی جاتی۔(الفتاویٰ الہندیہ، کتاب الزکاة، الباب الأول فی تفسیر الزکاة:۱/۱۷۴، رشیدیہ)

  (2 صنعتی آلات، مشینیں اور دوسرے وسائلِ رزق (جن سے انسان اپنی روزی کماتا ہے) بھی ضرورت میں داخل ہیں، ان کی قیمت بھی نصاب میں شامل نہیں کی جاتی، مثلاً:درزی کی سلائی مشین، لوہار اور کاشت کار وغیرہ کے اوزار، سبزی یا پھل بیچنے والی کی ریڑھی یا سائیکل وغیرہ۔(الفتاویٰ الہندیہ، کتاب الزکاة، الباب الأول فی تفسیر الزکاة:۱/۱۷۴، رشیدیہ)

 3)  ٹی وی، وی سی آر۔ ڈش، ناجائز مضامین کی آڈیو ویڈیو کیسٹیں جیسی چیزیں ضروریات میں داخل نہیں؛ بلکہ لغویات ہیں۔ مذکورہ قسم کا سامان ضرورت سے زائد کہلاتا ہے،اس لیے ان سب کی قیمت حساب میں لگائی جائے گی۔

  (4اگر کسی کے پاس ضرورت پوری کرنے کا سامان ہے؛ لیکن اس نے کچھ سامان اپنی ضرورت سے زائد بھی اپنے پاس رکھا ہوا ہے، مثلاً:کسی کی ضرورت ایک گاڑی سے پوری ہو جاتی ہے لیکن اس کے پاس دو گاڑیاں ہیں، تو اس زائد گاڑی کی قیمت کو نصاب میں داخل کیا جائے گا۔ (بدائع الصنائع، کتاب الزکاة،مصارف الزکاة:۲/۱۵۸،دار إحیاء التراث العربي)
واللہ اعلم بالصّواب!
 *عیدالاضحٰی کے تعلق سے ضروری ھدایتیں ۔۔۔*


*عیدالاضحٰی کے تعلق سے ضروری ھدایتیں ۔۔۔*

*جانور خریدنے سے پہلے*

1۔ حلال رقم کا بندوبست کریں۔
2۔ ا رب العزت کی رضا کا حصول اور فرض کی تکمیل کا جذبہ دل میں پیدا کریں۔
3۔ نمودو نمائش کے جذبات دل سے دفع کریں!
4۔ حصہ داری کرنے کا ارادہ ہو تو ابھی سے حصہ دار چن لیں۔ یہ عمل مستحب ہے۔

5۔ جس شخص کے بارے میں تحقیق ہو کہ اس کی آمدنی حرام ہے اس کو حصہ دار نہ بنائیں!

6۔ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے سے پہلے حجامت بنوالیں! ناخن اور زائد بال کاٹ لیں۔ یہ عمل مستحب ہے۔
*جانور خریدتے وقت*

*جانور خریدتے وقت*
1۔ جس جانور کے بارے میں غالب گمان ہو کہ چوری کا ہے اسے نہ خریدیں۔
2۔ جھوٹ اور جھوٹی قسموں سے بچیں!

3۔ دوسرے مسلمان بھائی کا سودا طے ہوچکا ہو تو اس کا سودا خراب نہ کریں!
جانور کو خوب اچھی طرح دیکھیں, خصوصا ان چیزوں کا ضرور لحاظ رکھیں:
*گائے کی عمر دو سال سے کم نہ ہو، اونٹ کی پانچ سال سے اور بکری کی ایک سال سے کم عمر نہ ہو۔ دنبہ بھیڑ چھ 6 ماہ یا اس سے زیادہ کا ہو لیکن دیکھنے میں سال والے کے برابر معلوم ہوتا ہو تو قربانی ہوجائے گی۔ گائے، اُونٹ اور بکری میں یہ مسئلہ نہیں۔ ان کی عمر پوری ہونا ضروری ہے۔*

٭ کان ، زبان، دم، ان اعضاء میں سے کوئی عضو نصف سے زیادہ کٹا ہوا نہ ہو، آنکھ کی روشنی نصف سے زیادہ ضائع نہ ہو۔(تہائی اور تہائی سے زیادہ کا فتوی بھی موجود ہے)

٭ سینگ اس قدر ٹوٹے ہوئے نہ ہوں کہ ٹوٹنے کا اثر دماغ تک پہنچ گیا ہو۔ ورنہ قربانی نہ ہوگی۔
*جانور خریدتے وقت*

٭ جان بوجھ کر ولادت کے قریب جانور کو خرید کر قربانی کرنا مکروہ ہے۔ بانجھ کی قربانی جائز ہے۔ خصی کی قربانی زیادہ افضل ہے۔
٭ ایسا جانور جو چارہ نہ کھا سکتا ہو یا چل ہی نہ سکتا ہو، کی قربانی درست نہیں۔
٭ جنگلی نسل کے جانور کی قربانی درست نہیں۔
٭ خنثی مشکل جانور کی قربانی جائز نہیں۔
*خریدنے کے بعد*

*خریدنے کے بعد*
1۔ جانور کی خدمت کریں۔ اسے کسی قسم کی ایذا نہ دیں۔
2۔ ایسی جگہ باندھیں جہاں آنے جانے والوں کو تکلیف نہ ہو۔
3۔ جانور کے گلے میں بجنے والی گھنٹی نہ ڈالیں۔
4۔ اس پر سواری نہ کریں، نہ ہی اس کا دودھ خود پییں! اگر دودھ نکال لیا تو اسے صدقہ کردیں! اس کی قیمت غریب کو صدقہ کر دے تو خود پینا جائز ہے۔

5۔ نمودونمائش کا اظہار نہ کریں۔
6۔ حصہ داری میں قربانی کر رہے ہوں تو حصہ داروں کو تمام معاملات میں ساتھ لے کر چلیں!

*قربانی کی تیاری*
1۔ صحیح العقیدہ مسلمان قصائی کا انتخاب کرلیں!
2۔ قصائی کی اجرت پہلے سے طے کرلیں!
3۔ قربانی کی کھال مستحق اور مستند دینی فلاحی اداروں کودینےکی کوشش کریں!

*قربانی کرتے وقت*
قربانی کرتے وقت ان باتوں کا خیال رکھیں!

1۔ چھری پہلے سے خوب تیز کرلیں۔
2۔ ذبح سے پہلے جانور کو چارہ کھلا لیں، پانی پلا لیں۔
3۔ جب شہر میں کسی ایک جگہ نماز عید ہوجائے تب قربانی کریں!
4۔ خود ذبح کریں، ورنہ کم از کم ذبح کے وقت وہاں موجود رہیں۔
5۔ ذبح کے وقت تماشا نہ بنائیں!

6۔ جس کروٹ پر جانور گرے اسی کروٹ پر ذبح کردیں۔ گھسیٹ کر قبلہ رخ نہ کریں! کوشش کریں کہ جانور قبلہ رخ گرے۔ قبلہ رخ کرنا صرف مستحب ہے جبکہ جانور کو گھسیٹ کر اسے ایذاء دینا ممنوع و مکروہ۔

7۔ چھری پھیرتے وقت بسم ا ، ا اکبرکہیں!
8۔ کم از کم تین رگیں ضرور کاٹیں!
9۔ ذبح کر دینے کے بعد دل میں یا حرام مغز میں چھریاں گھونپنا مکروہ عمل ہے۔
10۔ کھال کو کٹ لگنے سے بچائیں!

*قربانی کے بعد*
1۔ گوشت کے تین حصے کرنا مستحب ہے۔ ایک حصہ اپنے رشتہ داروں اور احباب میں ہدیہ کریں! ایک حصہ غرباء میں صدقہ کریں اور ایک حصہ اپنے اہل و عیال کے لےے رکھیں!

2۔ سات اشیاء نہ کھائیں:
١) بہتا خون.
٢) پیشاب کی جگہ.
٣) پاخانہ کی جگہ.
٤) پتہ.
٥) مثانہ.
٦) غدود.
٧) کپورے.

باقی تمام اشیاء حلال ہیں۔
3۔ قربانی کے جانور کاگوشت، چربی اور ہڈیاں بیچنا جائز نہیں۔ اگر بیچ دیا تو اس کی قیمت صدقہ کرنا واجب ہے۔
4- غیرمسلم کو قربانی کا گوشت دینا جائز ہے۔
*وَاللہ اَعْلَمُ*

Post a Comment